پاک ایران جوائنٹ کمیشن کا 21واں اجلاس

گوادر(بیورورپورٹ) پاک ایران جوائنٹ کمیشن کا 21واں اجلاس گوادر میں اختتام پزیر ہوگیا،21ویںکمیشن اجلاس میں دہشتگردی پر قابو پانے کیلئے مشترکہ اقدامات ،معلومات کا تبادلہ،تجارت کا حجم بڑھانے اور سرحدی سیکورٹی امور پر اہم فیصلے کیئے گئے ۔دونوں ملک مل کر دہشتگردی کے خاتمہ کیلئے بھر پور اقدامات کریں گے تجارت کے فروغ کیلئے سرحد وں پر بازار قائم کیئے جائیںگے ۔ڈپٹی گورنرعلی اصغر میر شکاری اور اورنگزیب حق کا اجلاس کے اختتام پر خطاب۔ تفصیلات کے مطابق جوائنٹ بارڈر کمیشن کا21واں تین روزہ کانفرس گوادر میں منعقد ہوا جس میں بلوچستان کے چیف سیکریٹری اورنگزیب حق،سیستان بلوچستان کے ڈپٹی گورنر علی اصغر میر شکاری،بلوچستان کے سیکریٹری محمد اکبر حریفال، آئی جی پولیس بلوچستان ،ایران کے قونصل جنرل محمد رفاعی ،کمشنر مکران بشیر احمد بنگلزئی ،ڈپٹی کمشنر گوادر محمد نعیم بازئی،ڈپٹی کمشنر کیچ ،ڈپٹی کمشنر پنجگور عبدالجبار بلوچ،ڈپٹی کمشنر چاغی شے حق بلوچ،ڈپٹی کمشنر واشک ،ڈی آئی جی مکران محمد ندیم حسین ،سمیت اعلیٰ سول و فوجی حکام نے شرکت کی ،تین روزہ اجلاس میں سرحدی امور،سیکورٹی معاملات،سرحدی دراندازی،تجارتی حجم کو بڑھانے اوربارڈر پوائنٹ پر مارکیٹس کے قیام ،امیگریشن ،راہداری کے معاملات،غیر قانونی تارکین وطن کے تدارک ،اسمگلنگ کی روک تھام،سمیت دیگر معاملات پر تفصیلی غور کیا گیا اور اہم فیصلے کیئے گئے اجلاس کے اختتام پر خطاب کرتے ہوئے چیف سیکریٹری بلوچستان اورنگزیب حق اور سیستان کے گورنر علی اصغر میر شکاری نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک مضبوط رشتہ موجود ہے ہماری ثقافتیں اور علاقائی روایتیں مشترکہ ہیں اور ایک بہترین ہمسائے کی طرح تمام مسائل کو مشترکہ مسائل سمجھتے ہوئے ان کے حل کیلئے مل بیٹھ کر فیصلہ کرتے ہیں 21واں جوائنٹ بارڈر کمیشن اسی سلسلے کا تسلسل ہے انہوں نے کہا کہ منعقدہ اجلاس بہت اہمیت کا حامل رہا ہے اور دونوں اسلامی برادرز ملکوں کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کرےگا انہوں نے کہا کہ دہشت گردی ہم سب کا مشترکہ دشمن ہے اور دہشت گردوں سے نمٹنے کیلئے مشترکہ کوششیں جاری رہیں گی سرحدی دراندازی کو روکنے کیلئے اقدامات کیئے جا رہے ہیں اور اس میں مزید موئثر اقدامات اٹھائے جائیں گے کسی کو دونوں ممالک کی سرزمین دہشت گردی کے استعمال کیلئے اجازت نہیں دی جائیگی انہوں نے کہا کہ تین روزہ کانفرنس میں اہم فیصلے کیئے گئے ہیں انہوں نے کہاکہ دونوں برادر ممالک کے درمیان سرحدی تجارت کے وسعت کیلئے بھی فیصلے ہوئے ہیں ریمدان 250اور پیشن پوائنٹ میں امیگریشن نظام کو جلد کھول دیا جائیگا جوائنٹ کمیشن کے معاہدوں پر کیئے گئے فیصلوں پر دونوں ممالک چھ ماہ کے دوران عمل درآمد کا آغاز کریں گے جس کے دور رس نتائج سامنے آئینگے،انہوں نے کہا کہ گوادر چابہار کے درمیان سسٹر سٹی کا رشتہ قائم ہے اور خطے میں ہونیوالی تجارتی سرگرمیوں سے مستفید ہونے کیلئے دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ حاصل کرکے معاشی سرگرمیوں سے بھر پور فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *